پارلیمانی انتخابات یا حملہ آوروں کا منصوبہ

آج کی بات

 

حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے حکم اور حمایت سے پارلیمانی انتخابات کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ نامزد امیدواران عوام کو سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کسی بھی امیدوار کے پوسٹر اور منشور میں حملہ آوروں کی موجودگی بارے کوئی پالیسی درج نہیں ہے۔ ایک ایسی صورت حال اور ماحول میں کہ دن اور رات ملک کی فضا اور سرزمین حملہ آوروں کے کنٹرول میں ہے، کابل انتظامیہ کو اتنا بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کتنے طیارے ملک کی حدود میں داخل ہوئے اور کتنے طیاروں نے ملک سے باہر پرواز کی۔ کتنے ہھتیاروں کو ملک میں لایا گیا ہے اور کہاں پر اور کن صوبوں میں وہ ہتھیار منتقل کیے گئے ہیں۔ کیا ان حالات میں جعلی انتخابات کی کوئی قانونی اور شرعی حیثیت ہے؟ اس کا جواب بہت واضح ہے کہ دنیا کے کسی قانون کے تحت ان ڈھونگ انتخابات کا کوئی جواز نہیں ہے۔

امارت اسلامیہ نے ان جعلی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ قوم سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس امریکی منصوبے سے دور رہے۔ امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ جس طرح دشمن کی فوجی یلغار کے خلاف جہاد کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا شرعی فریضہ ہے۔ اسی طرح قابض دشمن کی ہر قسم کی سیاسی اور انٹیلی جنس منصوبوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنا، ان کو ناکام بنانا اور مسلمان قوم کو ان کی سازشوں سے آگاہ کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ اور اہم جہادی عمل ہے۔ امارت اسلامیہ نے اس سلسلے میں ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق: ہم ایک بار پھر متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ نام نہاد انتخابات کے نام پر انتخابی ڈھونگ کی کوئی اسلامی اور افغانی اہمیت نہیں ہے۔ یہ ناجائز قبضے کو دوام بخشنے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا ایک منصوبہ ہے، جو استعماری قوتوں کی جانب سے بنایا گیا ہے۔ ان جعلی انتخابات کے حتمی نتائج کا اختیار بھی ان کے پاس ہے۔ اس بنا پر یہ ہر مسلمان اور افغان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بھرپور قوت کے ساتھ قابض قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی کوشش کریں۔ تاکہ جارحیت پسند اپنے منصوبوں میں مایوس اور ہمارے ملک سے واپسی پر مجبور ہوسکیں۔

پارلیمانی انتخابات حملہ آوروں کا ایک منصوبہ اور گہری سازش ہیں وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں اور سازشوں کے ذریعے اپنے ظلم اور غیرقانونی موجودگی سے عوام کی توجہ کسی اور جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ وہ انتخابات اور دیگر منصوبوں کے ذریعے ہمارے ملک کا استحصال جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ملک پر اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے مذموم منصوبوں میں مصروف ہیں۔ لہذا عوام کو چاہیے وہ حملہ آوروں کے اس منصوبے سے دور رہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*