قندھار میں انتخابی ڈرامہ

آج کی بات

 

قندھار میں بھی پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ 6 اضلاع ْغورک، شورابک، معروف، ریگنستان، میانشین اور نیشٌ میں مجاہدین کے اثر و رسوخ کی وجہ سے نام نہاد انتخابات نہیں ہو سکے۔ جب کہ دیگر چار اضلاع شاولی کوٹ، میوند، ارغستان اور خاکریز میں صرف ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پولنگ اسٹیشنز کُھلے تھے۔ ان پر مجاہدین نے بیک وقت بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ شہر اور دیگر کچھ اضلاع میں فراڈ انتخابات ہوئے۔ امارت اسلامیہ نے جعلی انتخابات سے قبل عوام کو آگاہ کیا تھا کہ نام نہاد انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ کیوں کہ قابض قوتیں جعلی انتخابات کی آڑ میں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے سازشوں مصروف ہیں۔ وہ نمائشی انتخابات کو جواز بنا کر کھلی جارحیت کو سندِجواز فراہم کرنے کے درپے ہیں۔ وہ اپنے من پسند لوگوں کو مسند اقتدار تک پہنچانے کی جستجو کر رہی ہیں۔ تاکہ ان کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے اپنے جرائم کو جواز فراہم کر سکیں۔

امارت اسلامیہ کے اس پیغام کا عوام نے خیرمقدم کیا۔ حتی کہ دارالحکومت کابل میں بھی لوگوں نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ حالانکہ انہوں نے ووٹر لسٹوں میں اپنا اندراج بھی کرایا تھا۔ امارت اسلامیہ نے جعلی انتخابات کے بعد عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے امارت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابات سے بائیکاٹ کیا۔ دوسری جانب مجاہدین کے حملوں کے خوف سے سرکاری ملازمین اور انتخابی عملے نے بھی پولنگ اسٹیشنوں کا رخ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے بھی بہت سے لوگ ووٹ کاسٹ کرنے سے محروم رہے۔ انتخابات کے دن مجاہدین کے حملوں پر مغربی میڈیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات کے لیے حکومت سے زیادہ طالبان چوکس تھے۔حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کو جیسی امید تھی، اُس تناسب سے انتخابات نہیں ہوئے۔ البتہ امارت اسلامیہ جس طرح چاہتی تھی، اسی طرح ہوا۔ ایک جانب سے جعلی انتخابات سے عوام کی عدم دل چسپی اور دوسری جانب پولنگ اسٹیشنز پر مجاہدین کے حملوں نے انتخابی ڈرامہ بے نقاب کر دیا ۔

حقیقت یہ ہے کہ عوام کو جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کے نمائشی انتخابات پر اعتماد نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں انتخابات میں وہ امیدواران منتخب کرائے جائیں گے، جنہوں نے امریکی غلامی میں سند حاصل کی ہے۔ اس لیے پارلیمانی انتخابات نہیں ہوئے، بلکہ یہ صرف ایک ڈرامہ تھا، جس میں لوگوں کو مصروف کیا گیا تھا۔ قندھار میں بھی پارلیمانی انتخابات دیگر صوبوں کی طرح نمائشی اور دھاندلی زدہ تھے۔ بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور بائیومیٹرک سسٹم نے کام چھوڑ دیا۔ بااثر شخصیات اور کرزئی خاندان کی مداخلت کی وجہ سے انتخابات مزید مشکوک اور مسترد ہوگئے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*