استعمار کو رابط مجاہدین کے حملوں کا پیغام

ہفتہ روز کے 03/نومبر  دارالحکومت کابل شہر میں کٹھ پتلی فوجوں کےمرکز سپیشل فورس   ٹریننگ سینٹر میں ایک افغان فوجی نے امریکی ٹرینروں پر  گولیوں کی بوچھاڑ شرع کردی، جس کے نتیجے میں اعلی فوجی مشیر اور ٹرینٹر برینٹ ٹیلر ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

سپیشل فورس نامی اہلکار امریکہ کے وہ ملکی مزدور ہیں، جن کا انتخاب  بہت غوروفکر اور گہرے تحقیقات کے بعد کیا جاتا ہے۔ یہ کہ انہی فورسز کے درمیان سے اعلی امریکی ٹرینروں پر فائرنگ کی جاتی ہے، تو اس کا معنی یہ ہے کہ افغانستان میں جارحیت کے خلاف نفرت ہر جگہ تک پہنچی ہے اور کوئی فوجی یا سول ساخت، ادارہ اور محل امریکن کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

کابل میں امریکی ٹرینٹروں کو ایسی حالت میں ہلاکتوں کا سامنا ہورہا ہے،کہ اس سے چند روز قبل صوبہ ہرات کے شینڈنڈ میں بھی ایک افغان فوجی نے بیرونی غاصبوں کو مار ڈالے تھے اور اس پہلے قندہارشہر میں افغان فوجیوں کے وسط میں رابط مجاہد  اہلکار نے ملکی اور غیرملکی جنرلوں کے اجلاس پر فائرنگ کی، جس میں قندہار پولیس چیف سمیت متعدد اعلی حکام ہلاک اور قندہار میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل جیفری سمایلی شدید زخمی ہوا۔

افغان فوجیوں کے وسط سے امریکی غاصبوں پر ہلاکت خیز حملوں کےختم نہ ہونیوالے سلسلے سے استعمار اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے درمیان بےاعتمادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ان کے حوصلے کو ختم، خطرات  اور نقصانات کی سطح کو  بلند کرتی ہے ، جو کہ  امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے گہرے فوجی منصوبہ سازی اور وسیع دسترس پر دلالت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ استعماری افواج اور ان کے تابع ممالک کے لیے اس میں مزید پیغامات بھی پوشیدہ  ہیں۔

یہ حملے تاریخ کی اس ثابت شدہ باب کو ایک بار پھر دوہرا رہی ہے، کہ افغان عوام کو کوئی بھی زر اور پیسے کے ذریعے دوست اور خرید نہیں سکتے۔ بیرونی استعمار سے نفرت اور اس کیساتھ دشمنی افغان عوام کے ہر شخص کی فطرت کا حصہ ہے،اسی لیے استعمار کو اس ملک کے ہر شہری سے خطرے کا احساس کرنا چاہیے۔

یہ حالت استعمار کو سیکھلا رہا ہے کہ اگر غاصبوں کو اس ملک میں قیام اور قبضے کی فکر رہتی ہے، تو انہیں ہمیشہ اس خوفناک اور ہنگامی حالت کو برداشت کرنا چاہیے، ہمیشہ جنرلوں کے رتبے تک اپنے اعلی حکام کی ہلاکتوں کو برداشت  اور یہاں رہنے کی صورت میں ہر وقت، ہر جگہ اور ہر کسی سے شدید خطرات کا احساس کرنا چاہیے۔

یہ کہ اخراجات اور تکالیف کے لحاظ سے رابط مجاہدین کے حملے آسان ہیں، لیکن دشمن کے نقصانات اور نفسیاتی، سیاسی اثرات کے لحاظ سے بہت مؤثر ہیں۔ اب مجاہدین اور تمام دین دوست و حریت پسند افغانوں نے اسی حربے پر توجہ دی ہے اور کوشش کررہی ہے کہ اسی طریقے سے استعمار پر خونریز حملے انجام دے اورغاصبوں سے سترہ سالہ مظالم کا انتقام  لے۔

اسی بنیاد پرامید کی جاتی ہے کہ عنقریب اسی نوعیت حملوں میں مزید اضافہ ہوگا اور مسلح جہاد کے ایک اہم اور بنیادی شعبے کے طور پر رونما ہوگا۔ اس حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر استعماری افواج جارحیت پر اصرار کررہی ہے اور  یا افغانستان میں اپنی فوجی ٹرینروں، مشیروں اور دیگر کارکنوں میں اضافہ کریگی، تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ رابط مجاہد غازیوں کے حملوں کو سہل الحصول اہداف  مہیا کرتے ہواور اس کے لیے کافی نقصانات کو جھیلنے کی آمادگی بھی رکھتے ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*