رابطہ کار مجاہدین کے حملے اور دشمن کی بداعتمادی

آج کی بات

 

الخندق آپریشن کے سلسلے میں مجاہدین کی جانب سے جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ پر جارحانہ، براہ راست، فدائی اور گوریلا حملوں کے علاوہ متعدد رابطہ کار مجاہدین نے بھی حملے کیے ہیں۔ جن میں حملہ آوروں اور اجرتی فورسز کے اعلی حکام اور کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ بیس دنوں کے دوران دشمن پر ایسے خوف ناک حملے کیے گئے کہ دشمن کو فوجی، انٹیلی جنس اور نفسیاتی لحاظ سے بڑا دھچکہ لگا ہے۔

صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں کمیونسٹ کمانڈر عبدالجبار قہرمان کو اپنے دفتر میں نشانہ بنایا گیا۔ اس کے اگلے روز قندھار میں ایک بہادر رابطہ کار مجاہد نے کامیاب حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں قندھار کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرزاق، خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل حسن خیل اور دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ جب کہ امریکی جنرل جیفری سمائیلی اور قندھار کے گورنر زخمی ہوئے۔

اس کے بعد ہرات میں ایک رابطہ کار مجاہد نے قابض اہل کاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں تین قابض فوجی ہلاک اور متعدد اہل کار زخمی ہوئے۔ گزشتہ روز کابل میں ایک بااحساس افغان اہل کار نے فوجی تربیت دینے والے امریکی افسروں پر فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں امریکی فوج کے متعدد افسر ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ حالیہ حملوں کے بعد حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو گئی ہے۔ حتی کہ حملہ آوروں نے کابل انتظامیہ کو کہا ہے کہ اب افغان فورسز کو براہ راست نہیں، بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے انہیں تربیت دی جائے گی۔

کابل انتظامیہ میں شامل تمام اہل کاروں کو ایک لمحے کے لیے سوچنا چاہیے کہ قابض امریکی فوجی کس مقصد کے لیے ہمارے ملک میں تعینات ہیں۔ ان کے کیا مقاصد اور ارادے ہیں؟ کیا اشرف غنی اور ان کا ادارہ قابض امریکی فوج کی تعداد اور ان کے مقاصد کو جانتے ہیں؟ امریکی حکام افغان عوام کے ساتھ کون سے مذہبی، ثقافتی، نسلی، یا لسانی روابط رکھتے ہیں؟

اس کا جواب بہت واضح ہے۔ امریکا کا افغان عوام کے ساتھ کوئی تعلق اور مفاد وابستہ نہیں ہے۔ اس نے ہمارے ملک پر ناجائز قبضہ کیا ہے۔ دن رات ہمارے ملک کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ چھاپے مارتے ہیں۔ فضائی حملے کرتے ہیں۔ ہماری مظلوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مختلف بہانوں سے نہتے شہریوں پر ظلم و ستم ڈھایا جاتا ہے۔ لہذا تمام اسلام پسند اور محب وطن فوجیوں کو چاہیے کہ وہ حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فورسز کو نشانہ بنائیں۔ دشمن پر یہ بات واضح کریں کہ افغان عوام کبھی بھی قابض قوتوں کا ناجائز قبضہ تسلیم نہیں کریں گے۔ ان بے ضمیر افغانوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا، جو جارحیت پسندوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ جن بہادر سپاہیوں نے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکام کو نشانہ بنایا ہے، ایک جانب انہوں نے اپنا ایمانی اور وطنی ذمہ داری ادا کی تو دوسری جانب وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ہیرو ہو گئے۔

رابطہ کار حملوں نے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکام کو فوجی، انٹیلی جنس، نفسیاتی اور جسمانی لحاظ سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دشمن کے درمیان بداعتمادی کی فضا بھی قائم کر دی گئی ہے۔ لہذا مجاہدین کو چاہیے وہ اس کامیاب تجربے سے مزید فائدہ اٹھائیں۔ دشمن کی صف میں سرایت کرنے والے اہل کاروں کی تعداد مزید بڑھائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*