دشمن کا بزدلانہ انتقام

آج کی بات

 

صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان میں گزشتہ رات قابض فوج اور اجرتی فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران ایک دیہات پر چھاپہ مارا اور مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ اس وحشیانہ کارروائی میں گیان بازار اور لوگوں کے گھروں میں گھس کر قیمتی اشیاء لوٹنے کے بعد دکانوں اور گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے بھی اڑایا  گیا۔ انہوں نے نہتے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ جس سے خواتین اور بچوں سمیت 21 افراد شہید ہوگئے ۔ رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں امریکی فوج نے ایک گھر میں 8 خواتین اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا ۔

علاقہ مکینوں نے کہا کہ امریکی فوجی گھروں سے ایک ایک فرد کو نکالتے اور اس کے سر پر فائرنگ کر کے قتل کر دیتے۔ لوگوں نے واضح کیا کہ گیان کے چھاپے میں کوئی طالب یا مسلح شخص نشانہ نہیں بنا۔ تمام لوگ کہتے کہ اس کارروائی میں صرف نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا  ہے۔ اگرچہ یہ واقعہ پہلا ہے اور نہ ہی یہ آخری واقعہ ہوگا۔ البتہ شکست خوردہ دشمن کا یہ آخری حربہ ہے۔ وہ سمجھتا ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے طالبان سے شکست کا بدلہ لیا جائے گا۔ مجاہدین کے حملوں میں ہر روز قابض اور کٹھ پتلی فورسز کے اہل کار مارے جاتے ہیں۔ ہر ماہ ہزاروں اہل کار ہلاک ہوتے ہیں۔ ان کی لاشیں میدان جنگ میں پڑی رہتی ہیں۔ انہیں جانور کھاتے ہیں اور ہر روز سو کے لگ بھگ سپاہی اپنی زندگی کھو دیتے ہیں۔

دشمن نے شکست پر پردہ ڈالنے اور عوام سے بدلہ لینے کا یہ طریقہ ایجاد کیا ہے کہ وہ نہتے شہریوں کو نشانہ بناتا ہ۔، ملک بھر میں جہاں مجاہدین نہیں ہوتے، وہاں بھی شہریوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مظلوم شہریوں پر تشدد کرنا اور انہیں حراست میں لینا دشمن کا معمول بن چکا ہے۔ بلاشبہ یہ ناقابل معافی جرم اور بزدلانہ اقدام ہے۔ اس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ گزشتہ روز صوبہ فراہ کے ضلع پشت کوہ میں فوجی اڈہ فتح کیا گیا۔ اس میں 30 فوجی ہلاک، جب کہ 21 گرفتار کیے گئے۔ اس کے علاوہ مجاہدین نے اس کارروائی میں بھاری مقدار میں اسلحہ، ہموی ٹینک اور فوجی گاڑیاں بھی ضبط کر لیں۔

ان دونوں واقعات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شکست خوردہ دشمن بزدلانہ انتقام لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ مجاہدین کے سامنے اتنا بے بس ہے کہ وہ اپنی لاشوں کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔انہیں درندے کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ خود نہتے شہریوں پر درندوں کی طرح حملہ کرتا ہے۔ خواتین اور معصوم بچوں کو گھروں میں وحشیانہ طریقے سے درندگی کا نشانہ بناتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انسانیت کی ہمدردی کے نام نہاد علمبردار بھی حملہ آوروں کے ان جرائم پر مکمل خاموش ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*