امارت اسلامیہ کی فعال ڈپلومیسی

آج کی بات

 

گزشتہ دنوں ماسکو میں افغانستان کے موجودہ تنازع کے پُرامن حل کے حوالے سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں 12 ممالک کے نمائندوں کے علاوہ امارت اسلامیہ کے پانچ رکنی وفد نے بھی شرکت کی تھی۔ امارت اسلامیہ کے وفد کی قیادت قطر کے سیاسی دفتر کے سربراہ محترم عباس ستانک زئی صاحب نے کی۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو امارت اسلامیہ کا مؤقف پیش کیا۔ ماسکو کانفرنس میں امارت اسلامیہ کے بیانیہ میں آزادی، امن، سلامتی، استحکام، بہترین عمل داری، بین الاقوامی اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات، منشیات کی روک تھام، انسانی حقوق، جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کے جرائم اور کرپشن بارے مدلل اور معقول حل پیش کیا گیا۔

کانفرنس کے شرکاء نے امارت اسلامیہ کا مؤقف نہایت غور سے سنا۔ اسے سراہا۔ مجموعی طور پر امارت اسلامیہ کے مؤقف کو افغانستان کے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بہترین حل قرار دیا گیا۔ ماسکو کانفرنس کے بعد امارت اسلامیہ کے نمائندوں نے مختلف ذرائع ابلاغ اور شخصیات کے ساتھ انٹرویو اور گفتگو کی۔ وفد نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کی وضاحت کی۔ جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کی متنازع پالیسیوں، مظالم اور کرپشن کو بے نقاب کیا۔ امارت اسلامیہ بارے منفی پروپیگنڈے، یک طرفہ معلومات اور افواہوں کو مسترد کیا گیا۔

امارت اسلامیہ اپنے نمائندوں پر فخر کرتی ہے۔ اس نے دیگر کانفرنسوں کی طرح ماسکو کانفرنس میں بھی افغان مظلوم عوام کی آواز عالمی برادری تک پہنچائی۔ جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کے جرائم، مظالم اور اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے امارت اسلامیہ کی بہترین نمائندگی کا حق ادا کیا۔ امارت اسلامیہ کے وفد نے ماسکو کانفرنس میں اپنا شرعی اور ملی مؤقف پیش کیا۔ اس کے باعث مختلف ممالک کے خدشات دور ہوئے تو دوسری جانب یہ واضح ہوا کہ امارت اسلامیہ افغان عوام کی حقیقی نمائندہ ہے۔ اسے وسیع عوامی قوت حاصل ہے۔ وہ عوام کے حقوق کے دفاع اور ریاستی خودمختاری کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ جدوجہد اس کا بین الاقوامی، انسانی اور قانونی حق ہے۔

امارت اسلامیہ نے عسکری محاذ پر قابض اور اجرتی دشمن کو شکست دی ہے تو سیاسی میدان میں بھی دشمن کو سرنگوں ہونے پر مجبور کیا ہے۔ امارت اسلامیہ نے دشمن کے منفی پروپیگنڈے، فوجی طاقت اور یک طرفہ مطبوعاتی سنسرشپ کے باوجود دنیا اور خطے کے ممالک کو قائل کیا ہے کہ ہماری جدوجہد اپنی دھرتی اور اقدار کے تحفظ کے لیے قانونی اور مسلمہ حق ہے۔ امارت اسلامیہ کی فعال ڈپلومیسی نے استعماری قوتوں کے ناجائز قبضے کے جواز کو تہس نہس کر دیا ہے۔ دنیا اور خطے کے اہم فوجی اور اقتصادی ممالک نے افغانستان میں حملہ آوروں کی موجودگی کی مخالفت کر کے امارت اسلامیہ کے مؤقف کی اخلاقی حمایت کی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*