افغان دھرتی افغانوں کی ہے

آج کی بات

 

ماسکو کانفرنس میں امریکا، روس اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کے بشمول دنیا اور خطے کے 12 ممالک نے شرکت کی۔ امارت اسلامیہ کے شریک وفد نے نہایت مدلل اور معقول طریقے سے افغان عوام کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔ امارت اسلامیہ کے اصولی مؤقف کا بھرپور دفاع کیا ۔ امریکا اور کابل انتظامیہ نے افغانستان کے امن کے حوالے سے ماسکو کانفرنس کے انعقاد میں روڑے اٹکانے کی بھرپور کوشش کی۔ کیوں کہ امریکا اور کابل انتظامیہ یہ سمجھتے ہیں کہ ماسکو کانفرنس میں ہر کسی کو افغان جنگ کے اصلی اسباب اور عوامل پر بات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے ۔ اس لیے وہاں ہمارے پروپیگنڈے کی بیخ کنی ہو جائے گی۔

امارت اسلامیہ کے وفد نے افغان تنازع کے حل اور افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بہترین تجاویز پیش کیں۔ ایک خودمختار اسلامی نظام کے بارے ٹھوس اور جامع حکمت عملی پیش کی ۔ امارت اسلامیہ کے وفد کے بیانیہ میں کہا گیا کہ افغانستان پر غیرملکی فوج کا ناجائز قبضہ تمام مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ افغانستان میں قیام امن اور قابض فوج کا انخلا لازم ملزوم ہے۔ کیوں کہ قابض فوج کے انخلا سے امن اور استحکام کے عملی مواقع پیدا ہوں گے۔ بدقسمتی سے اب بھی افغانستان میں نعرہ ہائے امن کو ایک منصوبے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا اور اس کے کچھ اتحادی ممالک حقیقی امن کے بجائے امارت اسلامیہ کو سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کو عسکری محاذ پر کمزور کر کے پھر ایک مضبوط مؤقف کے ساتھ اس کو مذاکرات پر مجبور کیا سکتا ہے۔ البتہ یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔

قطر میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ محترم شیر محمد عباس کی سربراہی میں وفد نے ماسکو کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے کانفرنس کے بعد میڈیا کے ساتھ معقول انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مرضی ہو یا نہ ہو، اس کو افغانستان سے جانا پڑے گا۔ افغانستان افغان عوام کا گھر ہے۔ اس پر امریکا کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر امریکی فوجی رضاکارانہ طور انخلا نہیں کرتی تو اسے زبردستی سے بے دخل کیا جائے گا۔ امریکی حکام ڈیڑھ یا دو لاکھ افغانوں کو ڈالر اور مراعات دیتے ہیں۔ جب کہ باقی تین کروڑ چالیس لاکھ افغان عوام امریکی جارحیت کے خلاف ہیں۔ وہ امارت اسلامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔

تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین کے مطابق ماسکو کانفرنس سے بلاشبہ امریکا کی خودغرضی کو دھچکہ لگا ہے۔ کیوں کہ امریکا افغان تنازع کے حوالے سے کسی کو مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اس نے سب کچھ اپنی ملکیت اور اختیار میں رکھا تھا۔ اسی طرح کابل انتظامیہ کو بھی نقصان ہوا۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو افغانستان بارے کانفرنس منعقد کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ ماسکو اجلاس میں کابل انتظامیہ کی حیثیت اور کردار اتنا کمزور اور پھیکا تھا کہ وہ اپنے مؤقف کا دفاع کرنے سے بھی قاصر تھی۔ جب کہ امارت اسلامیہ کے وفد نے اجلاس کے دوران اور اس کے بعد اپنے   مؤقف کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کے دلائل سے ثابت ہوا کہ افغانستان کے 75 فیصد رقبے پر ان کا کنٹرول ہے۔ داعش امریکی منصوبہ ہے اور اس کو کابل انتظامیہ کی انٹیلی جنس کی حمایت حاصل ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*