قیدیوں کی رہائی اعتماد سازی کی جانب پہلا قدم

آج کی بات

 

نیٹو نے افغانستان پر حملہ کر کے ناپسند افغان عوام، بالخصوص مجاہدین کا تعاقب شروع کیا۔ ان کو گرفتار کیا۔ گوانتانامو بدنام جیل میں ڈالا۔ نفسیاتی اور جسمانی اذیت کے ساتھ انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ خوف اور دہشت کا بازار گرم کیا۔ ہزاروں بے گناہ افغانوں کو کیوبا، بگرام، قندھار، پل چرخی اور ملک کے دیگر حصوں اور پڑوسی ملک پاکستان میں خفیہ جیلوں میں پابند سلاسل کیا۔ علاوہ ازیں طالبان کے ساتھ تعلق کے الزام پر مزید ہزاروں نہتے شہریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ہر ایک کے سر کی قیمت مقرر کی گئی۔

بدنام زمانہ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی رویہ اختیار کیا گیا۔ حتی کہ بہت سے قیدیوں نے دشمن کے انسانیت سوز اور وحشیانہ مظالم کی وجہ سے دم توڑا۔ دشمن نے دنیا کو اپنا رعب دکھانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے انسانیت کی تذلیل کی۔ لیکن خلاف توقع افغانستان میں مزاحمت کا نیا دور شروع ہوا۔ قابض امریکی فوج کے خلاف معرکے میں عوام نے مجاہدین کا بھرپور ساتھ دیا۔ ملک بھر میں آئے روز امریکی فوجیوں پر حملے ہوتے رہے، جس میں ہزاروں امریکی اور افغان فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اب جنگ، ظلم اور طاقت کے استعمال کے 17 سال بعد امریکی حکام نے اس بات کا ادراک کیا ہے کہ فوجی دباؤ کا نتیجہ بم دھماکوں اور ظلم کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس لیے اس نے کل کے بدترین دشمن طالبان کے ساتھ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے افغان جنگ کے خاتمے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

اگرچہ امریکا نے اب تک اپنی ظالمانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ہر روز مختلف علاقوں میں رات کے چھاپوں اور فضائی حملوں میں عام لوگ نشانہ بن رہے ہیں، جس کے ردعمل میں مجاہدین نے دشمن پر حملے بڑھا دیے ہیں اور نہتے شہریوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ایک طرف فضائی حملے اور آپریشن جاری ہے اور دوسری جانب مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے افغان تنازع کے حل کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ دو متضاد پالیسیاں ہیں۔ اگر اس صورت حال میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا جائے اور عوام پر سفاکانہ بمباری اور چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے تو ممکن ہے رحم اور انسانی ہمدردی پر مبنی سلوک مذاکرات میں ان کا مددگار ثابت ہو سکے۔ چوں کہ قیدیوں کی رہائی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، یہ اعتماد سازی کے لیے پیش رفت کا آغاز ہے۔

امید ہے قیدیوں کی رہائی کا یہ عمل بگرام، پل چرخی اور ملک کے تمام جیلوں سے شروع کیا جائے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ان تمام ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا جائے، جو سالہا سال سے کسی جرم کے بغیر جیلوں میں قید ہیں۔ تاکہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ مل سکیں۔ و ما ذالک علی اللہ بعزیز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*