کابل انتظامیہ کا آخری ناکام تجربہ

آج کی بات

 

گزشتہ دو ہفتوں سے مجاہدین نے ہزارہ آبادی والے علاقوں میں کابل انتظامیہ کے خلاف تیز رفتار پیش قدمی کی شروع کی ہے۔ جاغوری، مالستان اور خاص اروزگان کے کچھ علاقوں میں کابل انتظامیہ کی فورسز کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ ضلع مالستان فتح ہو گیا ہے۔ جاغوری میں ڈیڑھ ہزار ملیشیا کے سربراہ کمانڈر باشی درجنوں اہل کاروں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔ شجاعی شدید زخمی ہیں۔ ان کے مسلح اہل کاروں کو ان علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی کابل میں کچھ لوگ جمع ہوئے اور مجاہدین کی پیش قدمی کو نسلی، لسانی اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ مجاہدین نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ یہ جنگ کسی نسل یا قوم کے خلاف نہیں ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی مجاہدین معمول کے مطابق آپریشن کر رہے ہیں۔ جو گزشتہ 17 برس سے قابض فوج اور کابل انتظامیہ کے خلاف جاری ہے۔

کابل انتظامیہ نے بھی اس جنگ کو نسلی اور فرقہ وارانہ جنگ کا رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اشرف غنی نے ہزارہ آبادی والے علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں مجاہدین کے خلاف قومی ملیشیا قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ مجاہدین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے پانچ سو اہل کاروں کو تنخواہ دینے کا بھی اعلان کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تجربہ روس نواز کمیونسٹ رہنماؤں نے بھی شکست کے آخری دور میں کیا تھا۔ ملک کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں جبار ملیشیا اور شمالی علاقوں میں گلم جم اور کیانی ملیشیا کے نام سے لوگوں کو مسلح کیا۔ انہیں ہر قسم کے قانونی اور انسانی حقوق سے استثناء دیا۔ تاکہ وہ کھل کر ملک کے مظلوم شہریوں پر ظلم و ستم ڈھاتے ہوئے فرسودہ نظام کا دفاع کریں۔

چوں کہ نظام کی ڈور ملک کے اندر نہیں، بلکہ بیرون ملک آقاؤں کے پاس تھیں، اس لیے وہ اس ملیشیا کے ذریعے بھی خود کو نہ بچا سکیں۔ اب کابل انتظامیہ اس ناکام تجربے کو دہرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ قومی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب کی بنا پر ملیشیا کی تشکیل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ نظام تباہی کی جانب گامزن ہے۔

جب امریکا اور نیٹو کے لاکھوں فوجی، کابل انتظامیہ کی فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز مجاہدین کا مقابلہ نہیں کر سکیں تو یہ چند سو اہل کاروں پر مشتمل ملیشیا کی ناکامی تو سو فیصد یقینی ہے۔ اب ضروری یہ ہے کہ ملک کے تمام قبائل اور برادر اقوام کابل انتظامیہ کی ان مذموم کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ انہیں چاہیے وہ اپنے بیٹوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کو کرپٹ امریکی کٹھ پتلی حکومت کے مذموم مقاصد کے لیے قربانی کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ امارت اسلامیہ نے کبھی بھی ملک کے اندر قومی، لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا دینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ امارت اسلامیہ واحد قوت ہے، جس نے ان تعصبات اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔

بہتر یہ ہے کہ ہزارہ آبادی کے عوام چوکس رہیں۔ اشرف غنی کی جانب سے ملیشیا کے قیام کی ذمہ داری قبول نہ کریں اور نہ ہی اپنے بیٹوں کو قومیت، مذہب اور لسانیت کے تعصب میں ضائع کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*