سرنڈر ہونے والا دشمن امارت کی صف میں

آج کی بات

 

گزشتہ روز صوبہ فراہ کے ضلع خاک سفید کے مضافات میں کمانڈر مہربان اور کمانڈر بسم اللہ کی سربراہی میں 100 پولیس اہل کار سرنڈر ہوئے۔ درجنوں کی تعداد میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو مجاہدین کے سپرد کر دیا گیا۔ اس موقع پر علاقے میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں متعدد علمائے کرام، قبائلی عمائدین، مجاہدین، دعوت و ارشاد کمیشن کے رہنماؤں اور عوام نے شرکت کی۔ کابل انتظامیہ کے اہل کاروں نے سابقہ روش پر پچھتاوے کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ پھر کبھی بھی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ مجاہدین نے سرنڈر ہونے والے اہل کاروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور خیرمقدم کیا۔ انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کی جان اور مال کی حفاظت کیبجائے گی۔

مقامی مجاہدین اور دعوت و ارشاد کمیشن کی کوششوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ہر ماہ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے سیکڑوں اہل کار امارت اسلامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرتے ہیں۔ مجاہدین ایسے لوگوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور مستقبل میں پرامن زندگی گزارنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ کے دوران جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کے فوجی اور سول اداروں میں کام کرنے والے 1098 افراد امارت اسلامیہ میں شامل ہوئے۔ انہوں نے بھاری مقدار میں ہتھیار اور وسائل مجاہدین کے سپرد کیے۔ قابض فوج اور کابل انتظامیہ کے ساتھ کام نہ کرنے اور مستقبل میں مجاہدین کے شانہ بشانہ جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف جہاد میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔

امارت اسلامیہ نے بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ جو لوگ جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کی خدمت میں مصروف ہیں، وہ اسلام اور ملک کے خلاف سازشوں سے دست بردار ہو کر اسلامی اقدار اور قومی مفاد کا دفاع کریں۔ امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان مجاہد عوام کا جہاد قابض قوتوں کے خلاف جاری ہے۔ کابل انتظامیہ میں کام کرنے والے ملازمین اور اہل کار بھی دینی اور قومی ذمہ داری ادا کریں، تاکہ ملک آزاد اور اس میں اسلام نظام نافذ ہو سکے۔

امارت اسلامیہ ایک بار پھر ان لوگوں کو دعوت دیتی ہے، جو حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے ساتھ فرسودہ نظام میں اپنا مستقبل اور آخرت برباد کر رہے ہیں۔ وہ اس نظام سے الگ ہو کر مجاہدین کے ساتھ یکجا ہو جائیں۔ مجاہفین سے مل کر آزادی اور مظلوم عوام کو دشمن کے ظلم سے نجات دلائیں۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*