خوف کی فضا میں آقاکی بے اعتمادی کااظہار

ماہنامہ شریعت کا اداریہ

قندہار اورہرات میں پیش آنے والے واقعات کے بعد نیٹوافواج  نے اعلان کیاہے کہ اب وہ افغان فوجیوں کے ساتھ ملاقات نہیں کریں گے ۔افغانستان میں تعینات نیٹوترجمان کناٹ پیٹر نے کہاہے کہ ہم نے افغانستان میں افغان فوجیوں کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتیں معطل  کرلی ہیں ،اوراگرضرورت پڑی تو ٹیلی فون یاای میل کو بروئے کارلایاجاسکتاہے ۔کناٹ کا کہناہے کہ ہم نے یہ فیصلہ اپنے فوجی  اوراعلیٰ افسران کی حفاظت کے لئے کیاہے ۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھاہے کہ یہ حفاظتی اقدام پے درپے دوحملوں کے  بعد کیا گیاہے ،افغان فوجی مراکز سے بیرونی فوجی نکالے گئے ہیں جبکہ بیرونی افواج کے مراکزکی سیکورٹی پر تعینات افغان فوجیوں کوبھی وہاں سے ہٹادیا گیاہے ۔اشدضرورت کے وقت  افغان فوج کے افسروں کو بیرونی افواج کے مراکز میں بلایا جائے گا ،اندرداخل ہونے سے پہلے ان کی سخت تلاشی لی جائے گی اوران کے پاس موجود اسلحہ باہرہی جمع کردیا جائے گا ۔

گزشتہ دنوں افغان فوج میں موجود امارت اسلامیہ کے ایک جان نثار مجاہدابودجانہ نےکامیاب حملہ کرکے قندہارکے ڈی آئی جی  جنرل عبدالرازق اورقندہار کے انٹیلی جنس  سربراہ جنرل مومن  کوموقع پر ہلاک جبکہ  گورنرقندہار زلمی ویسا اورنیٹو کے ایک بڑے جنرل جیفری کو زخمی کیاتھا ،لیکن افسوس کہ حملے کا اصل ہدف نیٹوافواج کاسربراہ سکاٹ ملر اس حملے میں بچ گیا۔

ڈراورخوف سے بھرپور نیٹوکی اس نئی  اعلان شدہ پالیسی کے بارے میں ابھی تک کابل ادارے کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی زبانیں گنگ ہیں ،انہوں نے ابھی تک بیرونی غاصبوں کی جانب سے  افغان فوج سے متعلق اعلان شدہ   نئی  توہین آمیز پالیسی کے بارے میں اپنے کسی موقف  کا اظہارنہیں کیاہے نہ ہی آئندہ ان سے اپنے آقاکے مقابلے میں کسی ردعمل کی امید کی جاسکتی ہے ۔

نہ خنجراٹھے  گا نہ تلوار ان  سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

بیرونی افواج  اورکابل ادارہ اس فیصلہ کو ایک عام اورمعمولی فیصلہ باورکرانے کی بھرپورکوشش کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی فیصلہ اورعام حالت نہیں ہے۔ اگر گہری نظرسے دیکھا جائے تو  افغانستان پر قبضہ جمانے کے بعد سے لے کر آج تک  جاری اس جنگ میں  یہ ایک ایسا فیصلہ ہے کہ فوجی امورکے غیرجانب دار ماہرین اس کو طالبان کے مقابلے میں بیرونی افواج  اورکابل ادارے کی  واضح اورحقیقی شکست کا سب سے بڑا سبب سمجھتے ہیں ۔

یہ بات دنیا بھی جانتی ہے اورہم بھی مانتے ہیں کہ بیرونی قابضین اوراندرونی کٹھ پتلی ملیشا افغانستان میں ہمارے خلاف جاری اس جنگ میں  جنگی مشین کے دوایسے پرزے ہیں جن میں سے ہرایک کا عمل دوسرے پر موقوف ہے ۔

2001میں  جب امریکہ کی قیادت میں مغربی طاقتوں نے افغانستان پر حملہ کیا توان کاخیال تھاکہ ہماری ہوائی فوج چنددن میں طالبان کاصفایاکردے گی اورہم بڑے آرام کےساتھ افغانستان کی زمین پر اترکر افغانستان پر قبضہ کرلیں گے اس کے بعد افغانستان کی حکومت مغرب میں پلنے بڑھنے والے صرف  نام کے افغانوں کے ہاتھ تھمادیں گے اورتمام بڑے عہدے ان میں تقسیم کریں گے۔یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے شمالی اتحادکے نام سے  مشہور شریر ملیشاکو جنگ سے دوررکھا اورانہیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی۔ لیکن فضاسے شدید بمباری کے باوجود جب مہینہ بعد بھی امریکہ اوراس کے حواری طالبان کے خوف سے میدان میں اترنے پر قادرنہ ہوسکے اوراگرکہیں اترے بھی تو مقابلہ نہ کرسکے اس لئے مجبورا  ان شریراور فسادی ملیشاوں کو ساتھ میں شامل کرلیا اورطالبان کے خلاف لڑنے کی اجازت دیدی ،جس کی وجہ سے بیرونی افواج کا زمین پراترنا اوریہاں قبضہ جمانا آسان ہوا۔اوربات صرف حملے اورقبضہ کے آغاز کی نہیں بلکہ تب سے لے کرآج تک بیرونی طاقتیں جنگ جاری رکھنے اوراپنی حفاظت کے لئے انہی ملیشاوں کی مدد اورتعاون کے محتاج ہیں ،ان کی تعاون کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔

رہی بات افغان کٹھ پتلی حکومت کی ،توبیرونی افواج کو ان کااحتیاج اظہرمن الشمس ہے اوراس کا اقراروہ خودبھی کرتے رہے ہیں کہ بیرونی افواج کی غیرموجودگی میں ہم دوتین دن بھی طالبان کے مقابلے میں نہیں ٹھہرسکیں گے ۔توافغانستان میں جاری اس جنگ کے دونوں پرزوں کاآپس میں اس قسم کا تعلق ہے کہ اگریہ ایک دوسرے کاساتھ نہ دیں تو یہ جنگ کومزید طول نہیں دے سکتے اورایک دوسرے کا مکمل ساتھ دینے کے لئے ازحداعتماد ضروری ہے جو کہ اب ان کے درمیان نہیں رہا ۔جس کا کھل کراظہاربیرونی افواج نےاس نئے اقدام سے کرکے یقینی شکست کی طرف ایک انتہائی بڑا قدم اٹھالیاہے ۔

طالبان نے گزشتہ 17برس سے جاری اس جنگ میں مختلف جنگی حکمت عملیاں اپنائیں ہیں جن کی روک تھام سے دشمن بھی عاجز آگیاہے لیکن طالبان کا اپنے بے شمار مجاہدین  کا دشمن کی صفوں میں داخل کرنا ایک ایسی کامیاب حکمت عملی ہے جو دشمن کی شکست میں اہم کرداراداکرے گی ۔ان شاءا للہ

امیدیہی ہے کہ طالبان نے اپنی بھرپورتوجہ اب اسی جانب مبذول کی ہوگی  اوراپنے زیادہ ترفدائین کو دشمن کی صفوں میں داخل کرائیں گے بلکہ داخل کرایاہوگا۔دشمن کی صفوں میں داخل ہونے والا فدائی دشمن کواس قدربھاری نقصان سے دوچارکرسکتاہے جتنا آمنے سامنے جنگ میں سومجاہدین بھی نہیں پہنچاسکتے ۔واضح رہے کہ اصل  مقصد نقصان کی زیادتی یاکمی نہیں بلکہ اہم بات دشمن کی صفوں میں ڈراورخوف  کاپھیلانااوربے اعتمادی  کی فضا پیداکرناہے جس کی بدولت دشمن اتنے بڑے فیصلے کرنے پر مجبورہوجاتاہے۔

ایک مجاہدکا تن تنہا صوبہ کے اہم ترین اورمحفوظ مقام گورنرہاؤس میں  نیٹوافواج کے سربراہ اورصوبہ کے بڑے رہنما،گورنر ،ڈی آئی جی اورانٹیلی جنس کےسربراہ پر حملہ کرنا ایک بڑی کامیابی اور دشمن کے لئے بڑے خوف اورڈر کاباعث ہے ۔جنگی اصول کے مطابق حملے میں بچ جانے والے بھی ہلاک تسلیم کئے جاتے ہیں  کیونکہ حملے کی زد میں تو آہی گئے ہیں ۔اوریہ یہی ہمارے لئے اہم ہے ۔

یہ خیال کرنا کہ افغان فوج کے ساتھ بالمشافہ ملاقات نہ کرنے سے یہ لوگ اس قسم کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں گے امریکہ اورنیٹوکی خام خیالی اورحماقت ہے ۔یہ اقدام انہیں ایک دوسرے پر بے اعتمادی کے باعث  طالبان کے مقابلے میں مزید کمزورتوکرسکتاہے لیکن داخلی حملوں سے بچانہیں سکتا۔اب دشمن کی صفوں  میں داخل مجاہدین ،افغان فوجی مراکز سے بیرونی افواج کے مراکز پر زمینی حملے کریں گے اورعنقریب وہ وقت بھی آنے والاہے کہ افغان فوج میں شامل  مجاہدین  افغان فوج کے مراکز سے طیارے اڑاکر بیروی فوج کے مراکز پربڑے بڑے بم برسائیں  گے ۔

افغان قوم اورمسلمان ملت مطمئن رہے کہ مجاہدین کے ان کامیاب ضربوں نے دشمن کی کمرتوڑکررکھ دی ہے ،دشمن میں اب مزید ٹھہرنے کی سکت نہیں رہی ،بہت جلد شرمناک شکست کے ساتھ افغانستان سے دم دباکر بھاگ جائے گا اورپوری دنیاسمیت یہ خطہ ان کے شروفساد سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*